بھٹکل:8/ مارچ (ایس اؤنیوز)سمندر میں روشنی کے ذریعے مچھلیوں کا شکار کئے جانے والی لائٹنگ فشنگ ماہی گیری پرپابندی عائد کرنے کے متعلق جمعرات کو بندرگاہ پر منعقدہ میٹنگ میں دونوں گروہ کوئی متفقہ فیصلے نہیں ہونے کی وجہ سے میٹنگ درمیان میں ہی ختم ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
محکمہ ماہی گیر اور ساحلی تحفظ دستہ کے عملے کی نگرانی میں منعقد ہوئی میٹنگ میں کشی ماہی گیر سنگھ کے سکریٹری سومناتھ وغیرہ نے لائٹنگ فشنگ پر سرکاری طورپر پابندی عائد ہونے کے باوجوعمل نہیں ہونے کی با ت کہی۔ شروع مارچ سے ہی لائٹنگ فشنگ نہیں کرنے کافیصلہ لیا گیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا جارہاہے، حالات سے تمام ماہی گیر متاثر ہونے کی بات کہتے ہوئے سرکاری افسران سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں کارروائی کریں۔ اس کے برعکس فرشین بوٹ مالکان نے دعویٰ پیش کیا کہ لائٹنگ فشنگ صرف بھٹکل میں بند کرنے سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے، پڑوس کے مپلے ، منگلورو کی بوٹ س بھٹکل سرحد تک ماہی گیر کریں گی ، اس کوروکنے والا کوئی نہیں ہے اور کرناٹکا ساحلی فرشین بوٹ یونین نے اس تعلق سے کوئی فیصلہ بھی نہیں لیا ہے اس کا روکنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہونے کی بات کہی۔ یہیں سے معاملہ بگڑتا چلا گیا ہنگامہ خیزی شروع ہوئی تو فیصلہ کے بغیر میٹنگ کے اختتام کااعلان کیاگیا ۔ اس کے بعد فشنگ بوٹ اور کشی ماہی گیر وں نے علاحیدہ میٹنگ کرتے ہوئے افسران سے کہاکہ حالات بگڑنے سے پہلے ضروری اقدامات کریں ، افسران اپنے فرائض کو انجام دیں گے تو ہنگامہ نہیں ہوگا۔ آئندہ لائٹ فشنگ کو موقع نہیں دینے کی بات کہی۔ اگر اس کے بعد بھی لائٹنگ فشنگ کو موقع دیاگیاتو احتجاج ہماری مجبوری ہونے کا انتباہ دیا۔محکمہ ماہی گیر کے مادیو نے ماہی گیروں کا فیصلہ اعلیٰ افسران تک پہنچانے کی جانکاری دی ۔